Introduction

خیر کم من تعلم القران و علمہ(حدیث) تم میں سے بہتروہ ہے جو قرآن کی تعلیم حاصل کرے اور دوسروں کو اس کی تعلیم دے           

  قرآن ایسا نصیحت کرنے والا ہے جو فریب نہیں دیتا،ایساہدایت کرنے والا ہے جو گمراہ نہیں کرتا،ایسا بیان کرنے والا ہے جو جھوٹ نہیں بولتا،ایسا شفاعت کرنے والا ہے جس کی

شفاعت قبول ہوگی۔جیسا کہ خود قرآن نے اپنا تعارف بیان کیا ہے: ذالک الکتاب لاریب فیہ(القران) یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں

            یہ کتاب جس قدر اہمیت کی حامل تھی اسی قدر اس سے بے اعتنائی برتی گئی۔انسانیت کی ھدایت کے اس سرچشمہ کو ترکہ ممنوعہ کی مانندالماریوں ،شادی بیاہ کی تقریبات اور تجہزو تکفین کے عمل تک محدود کر دیا گیا ۔اس بے اعتنائی کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں عربی زبان سے عدم واقفیت،مفاہیم قرآن کو سمجھنے میں دشواری اور دیگر اسی قسم کے عناصر پیش پیش ہیں۔عام قاری سے لے کر علماءتک اس کلام کو جس عدم توجہی کا سامنا رہا تمام درد مند حضرات کے لئے واضح ہے۔             اہل معرفت قرآن کو معنی و معارف کا ایسا سمندر قرار دیتے ہیں جو ستر حجابوں کا حامل ہے،ہر شخص اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس بحربیکراں کی پہنائیوں میں اتر کر اپنی ذات کی تکمیل کا ہدف حاصل کرتا ہے

۔             قرآن سے دوری کے اس درد کو محسوس کرتے ہوئے الہادی گلوبل ویلفیئر ایسوسی ایشن نے مخلوق اور خالق کے کلام کے درمیان رشتہ کو استوار کرنے کی ایک سعی کی ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اپنی علمی صلاحیات کی روشنی میں قرآن سے ہدایت حاصل کریں۔

            الہادی قرآن اکیڈمی اسی مقصد کی جانب ایک قدم ہے اس اکیڈمی کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعہ علوم قرآن کو اس کے مشتاقان تک پہنچانے کامنصوبہ زیر عمل ہے ،الہادی قرآن اکیڈمی تربیت یافتہ اور ماہر افراد کا ایسا گروہ ہے جس کا ہدف و مقصد علوم قرآن کی ترویج و اشاعت ہے۔ہمارے ماہرین آن لائن تعلیم وتربیت کی سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے ناظرہ،